وہ شہر کی مدھم روشن سڑک کے کنارے پر چل رہا تھا، قدم بے دھیان، نگاہیں خالی، اور چہرے پر ایک اداسی۔ اسٹریٹ لائٹس کی روشنی میں ہر ہنستا چہرہ اسے صرف ایک ہی چہرہ یاد دلا رہا تھا۔ اور اس کا دل، جو کبھی کسی کے نام ہو چکا تھا، آج ایک ایسی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں اس کے لیے صرف ویرانی تھی۔ یہ کہانی “ارمان” نامی ایک خوبرو جوان کی ادھوری داستان ہے۔

دوسری طرف، ایک لڑکی تھی، جس کا نام  “ساحرہ” تھا، اور اس کے نام میں چھپی جادوئی کشش ارمان کے وجود میں سرایت کر چکی تھی۔ ساحرہ، ہمیشہ پردے میں رہنے والی، اپنی باتوں کو تول مول کر ادا کرنے والی، اور ایک ایسی پہیلی تھی جسے ارمان کبھی بوجھ نہ سکا۔ وہ دونوں ایک ہی دفتر میں کام کرتے تھے، پیشہ ورانہ تعلق میں وہ دونوں جڑے ہوئے تھے، لیکن ارمان کے دل میں ایک ایسی لہر تھی جو ہر حد پار کر چکی تھی۔

وہ روزانہ ملتے، کام کی باتیں ہوتیں، مسکراہٹیں بکھرتیں، لیکن ارمان کے اندر چھپا طوفان ساحرہ کی خاموشی کی چٹان سے ٹکرا کر واپس آ جاتا۔ کئی بار اس نے سوچا کہ وہ اپنے دل کا حال کہہ دے، لیکن ساحرہ کا وہ روکھا، صرف کام سے متعلق رویہ اسے روک دیتا۔ وہ ڈرتا تھا، اس رشتے کے ٹوٹ جانے کا ڈر، جو پیشہ وارانہ ہی سہی، ان دونوں کو آپس میں جوڑے ہوئے تھا۔

ایک دن، ساحرہ نے اسے فون کیا، آواز میں عجیب سی لچک، ایک نیا پن۔ “ارمان، تمہیں ایک ایونٹ پلینر کا علم ہے؟ مجھے میرے نکاح کے لیے چاہیے تھا۔”

ارمان کا دل ایک لمحے کو جیسے تھم سا گیا۔ اس کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا، یوں لگا جیسے اس پر بجلی آن گری ہو۔  نکاح؟ اس ساحرہ کا؟ جس کے لیے اس کا ہر دن سنورتا تھا، جس کے لیے وہ ہر رات آنکھوں میں خواب لیے سوتا تھا، آج وہ اسے اپنی زندگی کے سب سے بڑے دن کا حصہ بننے کے لیے ایونٹ پلینر ڈھونڈنے کا کہہ رہی تھی۔

اس نے سنبھل کر آواز کو معمول پر رکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے جواب دیا، “ہاں، ہاں، میں دیکھتا ہوں۔”

اس کے بعد، ساحرہ کے رویے میں ایک غیر معمولی تبدیلی آئی۔ وہ پہلے سے زیادہ دوستانہ ہو گئی، چھوٹے موٹے ٹاسک میں مدد دینے لگی، اور باتوں میں عجیب سی اپنائیت آ گئی۔ ارمان کے دل میں امید کی کرن جاگی، ایک خوفناک لیکن حسین امید۔ کیا وہ کچھ کہنا چاہ رہی ہے؟ کیا وہ جان گئی ہے؟ یا شاید وہ صرف اسے آزما رہی ہے؟ یہ سوالات اس کے ذہن میں کانٹوں کی طرح چبھ رہے تھے۔

 ہر میسج پر اس کا دل دھڑکتا، ہر کال پر بے چینی بڑھ جاتی۔ وہ چاہتا تھا کہ یہ رابطہ کچھ دن کے لیے ٹوٹ جائے، کہ اسے اس کرب سے نجات ملے، لیکن وہ کہہ نہیں سکتا تھا۔ کیسے کہتا؟ جب اس کا اپنا دل ہی اتنا بے بس تھا۔ پھر ایک دن ساحرہ نے جاب چھوڑ  دی، اور کسی دوسری جگہ ملازمت کرنے لگی۔ کچھ دن اسی طرح گزر گئے۔

ارمان کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ ایک دن وہ اپنی ویب سائٹ پر بیٹھا، کوڈ لکھ رہا تھا، لیکن حروف اس کی آنکھوں کے سامنے دھندلا رہے تھے۔ اسے یاد آیا وہ دن جب ساحرہ نے نوکری چھوڑی، تب بھی ساحرہ نے اسے ہی میسج کیا تھا لیپ ٹاپ کے لیے۔ ہمیشہ کی خاموشی توڑ کر اس نے تب بھی ارمان کو یاد کیا، اور آج بھی اسی کو اپنے سب سے ذاتی لمحے کا حصہ بنایا۔

“آخر کیوں؟” ارمان خود سے پوچھتا۔ “وہ کیوں ایسے کر رہی ہے؟ یہ قریب آنا، یہ باتیں کرنا، یہ سب جب مجھے سب سے زیادہ تکلیف دے رہا ہے؟”

اسے لگا جیسے وہ ایک بھنور میں پھنس گیا ہے، جہاں ایک طرف ساحرہ کے بدلے ہوئے رویے کی کشش تھی اور دوسری طرف اس کے نکاح کی کڑوی حقیقت۔ اس کا دل جیسے اندر ہی اندر ٹوٹ رہا تھا، اور باہر سے وہ دنیا کو دکھا رہا تھا کہ “میں ٹھیک ہوں، میرا حال اچھا ہے۔”

اور پھر ایک دن، ارمان نے فیصلہ کر لیا۔

اس نے ساحرہ کے نکاح کے لیے ایونٹ پلینر کا بندوبست کر دیا۔ ایک پیشہ ورانہ میسج کیا، جس میں مبارکباد کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا کہ وہ اپنے نئے ڈیجیٹل پروجیکٹس اور بلاگنگ میں بہت مصروف ہے، اس لیے شاید جلد جواب نہ دے سکے۔ اس نے اپنے فون سے ساحرہ کے میسجز کی نوٹیفیکیشنز بند کر دیں، اور خود کو اپنے کام میں پوری طرح غرق کر لیا۔

شروع میں بہت مشکل ہوئی، دل بار بار بے چین ہوتا، لیکن ہر بار جب وہ کوڈ کی ایک نئی لائن لکھتا یا اپنے بلاگ پر ایک نیا مضمون پوسٹ کرتا، تو اسے ایک عجیب سا سکون ملتا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کی زندگی صرف ایک شخص کے گرد نہیں گھومتی۔ اس کے اپنے خواب ہیں، اس کے اپنے مقاصد ہیں۔

وقت گزرتا گیا، اور ارمان نے اپنے ڈیجیٹل پروڈکٹس کو کامیابی سے لانچ کیا۔ اس کے بلاگ پر ٹریفک بڑھنے لگی۔ وہ دن رات محنت کرتا رہا، اور اس کی محنت رنگ لائی۔ اس کی آمدنی میں اضافہ ہوا، اور اس کی پہچان ایک کامیاب فری لانسر اور بلاگر کے طور پر بن گئی۔

ایک شام، جب وہ اپنی نئی ویب سائٹ کے لیے کام کر رہا تھا، اس کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ تھی۔ وہ اب بھی ساحرہ کو یاد کرتا تھا، لیکن اس یاد میں اب کرب نہیں تھا، صرف ایک ہلکی سی اداسی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ محبت کا مطلب ہمیشہ حاصل کر لینا نہیں ہوتا، کبھی کبھی اس کا مطلب کسی کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرنا اور پھر اپنی زندگی میں آگے بڑھنا بھی ہوتا ہے۔

ارمان نے اپنی زندگی کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ اس نے اپنے دل کو سمجھا لیا تھا کہ کچھ کہانیاں ادھوری رہ کر بھی خوبصورت ہوتی ہیں۔ اس نے اپنے آپ کو معاف کر دیا تھا کہ وہ اظہار نہ کر سکا، اور ساحرہ کو بھی معاف کر دیا تھا کہ وہ اس کے دل کی بات نہ سمجھ سکی۔

اس کا دل اب بے چین نہیں تھا، بلکہ ایک نئے سفر کے لیے تیار تھا۔ وہ جانتا تھا کہ زندگی میں بہت کچھ باقی ہے، اور وہ اپنے لیے ایک نئی، روشن اور کامیاب داستان لکھنے کے لیے تیار تھا۔

شداد آحقرؔ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ Required fields are marked *