شمان جادوگر سر جھکائے گہری سوچ میں غرق اپنے تخت پر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے سامنے اس کے امراء، وزراء اور مصاحبوں کی لمبی قطار موجود تھی۔ وہ سب خاشومی سے بیٹھے شمان جادوگر کو دیکھ رہے تھے۔ شمان کے دائیں اور بائیں جانب زاگر اور کالیا جادوگر وزیر بھی اپنے اپنے تختوں پر براجمان کچھ سوچ رہے تھے۔
اچانک شمان کے وزیر کالیا جادوگر نے اپنا سر اُٹھایا اور شمان جادوگر سے مخاطب ہوا۔ “عالی جاہ! مجھے کچھ کہنے کی اجازت ہے؟”
“کہو، کیا کہنا چاہتے ہو؟” شمان نے پوچھا۔
“عالی جاہ! میرے ذہن میں آیا ہے کہ آپ موت کے جزیرے سے اپنے دوست زباٹا جادوگر کو بلا لیں اور اس کی قیادت میں فوج کو امیر حمزہ کے مقابلے میں بھیجیں۔ زباٹا ضرور امیر حمزہ اور عمرو عیار کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گا”۔
“نہیں نہیں۔ زباٹا جادوگر ابھی کمزور ہے، اور وہ یہ کام نہیں کر سکتا۔ میرا اپنا بھتیجا جو پہاڑ جیسا طاقتور اور وحشی تھا وہ امیر حمزہ کے ہاتھوں مارا گیا تو پھر زباٹا جادوگر امیر حمزہ اور عمرو عیار کے سامنے کیا حیثیت رکھتا ہے؟ پچھلی بار تو ہم فوج کو میدانِ جنگ سے صحیح سلامت واپس لانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ مگر زباٹا کے ہوتے ہوئے فوج تباہ و برباد ہو جائے گی”۔ شمان جادوگر نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے غصے سے وزیر کالیا جادوگر کو دیکھا۔
“تو پھر اور کیا ترکیب ہو سکتی ہے کہ امیر حمزہ اور عمرو عیار کو شکست دی جا سکے؟” کالیا جادوگر نے سوچتے ہوئے کہا۔
“میں نے تم سب کو ترکیب سوچنے کے لیے ہی بلایا ہے۔ مگر اتنی دیر گزر جانے کے باوجود تم میں سے کوئی بھی امیر حمزہ کو شکست دینے کی تریکیب نہیں سوچ سکا۔ کتنے افسوس کی بات ہے ۔ مجھے آج معلوم ہوا کہ میرے امراء، وزراء اور مصاحب کتنے نا اہل ہیں۔ افسوس، افسوس”۔ شمان جادوگر نے ہاتھ ملتے ہوئے دکھ سے کہا۔
“عالی جاہ! میرے ذہن میں ایک بہت زبردست ترکیب آئی ہے”۔ زاگر جادوگر نے خوشی بھرے لہجے میں کہا۔
“تمہیں بھی کالیا جیسا ہی کوئی نا معقول خیال ہی آیا ہوگا؟” شمان نے اس کی طرف لاپرواہی سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“جی نہیں جناب عالی! آپ مجھے اجازت دیں، تو میں آپ کو اپنی ترکیب پیش کروں۔ ضرور میری ترکیب آپ کو پسند آئے گی”۔ زاگر جادوگر سے بے چینی سے شمان جادوگر کو کہا۔
“بولو، اجازت ہے۔ پتا لگے کہ آخر تمہیں کونسی ایسی ترکیب سوجھی ہے؟” شمان نے منہ چرا تے ہوئے کہا۔
“عالی جاہ! شہنشاہِ کوہِ شیطان!” زاگر جادوگر نے خوشی سے بے قابو ہوتے ہوئے کہا۔
“کہاں ہے؟ کہاں ہے؟ کہاں ہے کوہِ شیطان؟” شمان جادوگر بوکھلا کر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“میرا مطلب آپ کا دوست سردار کوہِ شیطان، عالی جاہ! وہ شیطان کی وادی میں ہے۔” زاگر جادوگر نے بتایا۔
“ہاں۔ وہ میرا دوست ہے۔ اور وہ کوہِ شیطان کا سردار ہے۔ کہنا کیا چاہتے ہو، زاگر؟ کھل کر کہو۔” شمان نے زاگر جادوگر سے کہا۔
“عالی جاہ! میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سردار کوہِ شیطان بہت ہی آسانی سے امیر حمزہ اور عمرو عیار کو شکست دے سکتا ہے۔” زاگر جادوگر نے خوش ہو کر کہا۔
“ہاں، صحیح کہا۔ میرا تو اِس طرف دھیان ہی نہیں گیا۔ تم تو واقعی دور کی سوچ رکھتے ہو، اور حاضر دماغ بھی ہو۔ بلاشبہ وہ اپنی فوج کے ذریعے امیر حمزہ اور عمرو عیار کو اس کی فوج سمیت ختم کر سکتا ہے۔ میں ابھی اسے پیغام بھجواتا ہوں۔” شمان جادوگر نے خوشی سے اظہار کرتے ہوئے کہا۔
“نہیں نہیں عالی جاہ! آپ اسے پیغام نہ بھجوائیں، بلکہ خود جا کر اس کو حملے کے لیے قائل کریں۔” زاگر جادوگر نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
“مجھے خود جانے کی کیا ضرورت ہے۔ میں پیغام ہی لکھ دیتا ہوں۔ وہ چلا آئے گا۔ اس میں کونسی مشکل ہے؟” شمان جادوگر نے جواب دیا۔
“یہی تو کھیل ہے، عالی جاہ! آپ سردار کوہِ شیطان کے پاس خود جائیں اور اسے امیر حمزہ کے خلاف بھڑکائیں، بلکہ اسے یہ بھی بتائیں کہ امیر حمزہ اس کی وادی پر بھی قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس طرح وہ جوش میں آ جائے گا اور امیر حمزہ پر حملہ کر کے سب کچھ تہس نہس کر دے گا۔ اس طرح آپ کا مقصد بھی پورا ہو جائے گا اور آپ سردار کوہِ شیطان کے احسان مند بھی نہ بنیں گے۔” زاگر جادوگر کی اس عقلمندی پر شمان جادوگر بہت خوش ہوا۔
“میں تمہیں دو لاکھ اشرفیاں بطور انعام دیتا ہوں۔” شمان نے خوش ہوتے ہوئے دوبارہ کہا۔
زاگر جادوگر کی خوشی کی انتہاء نہ رہی، اور وہ خوشی سے اچھل پڑا۔
“اب تم یہاں پر اپنی خوشیاں مناؤ، اور ہم جا کر سردار کوہِ شیطان سے بات کرتے ہیں۔ ہم سے زیادہ اور کون اسے قائل کر سکتا ہے؟” شمان نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔
“کالیا، تم میرے ساتھ آؤ۔” یہ کہتے ہوئے شمان تخت سے اُٹھا اور دربار سے باہر نکل آیا۔ کالیا جادوگر بھی اس کے ساتھ تھا۔
محل سے باہر آ کر شمان جادوگر نے منہ ہی منہ میں ایک منتر پڑھا۔ منتر پڑھتے ہی ایک بڑا تخت اُڑتا ہوا آیا اور شمان کے سامنے زمین پر اتر گیا۔ شمان بڑی شان کے ساتھ تخت پر براجمان ہو گیا۔ اس نے کالیا جادوگر کو بھی تخت پر سوار ہونے کا اشارہ کیا۔ کالیا جادوگر بھی تخت پر بیٹھ گیا، تو شمان جادوگر نے تخت کو شیطان کی وادی کی طرف چلنے کا حکم دیا۔ تخت تیزی کے ساتھ اوپر اُٹھا اور برق رفتاری سے شیطان کی وادی کی طرف پرواز کرنے لگا۔
تخت کی رفتار اس قدر تیز تھی کہ ہر چیز دھندلی دھندلی نظر آتی تھی۔ زمین پر بہتے ہوئے دریا اور سمندر چھوٹی چھوٹی لکیروں کی مانند معلوم ہوتے تھے۔ بڑے بڑے پہاڑوں، لمبے جنگلوں اور خوفناک صحراؤں کو عبور کرنے کے بعد شمان کا تخت آخر کار شیطان کی وادی میں داخل ہوگیا۔ یہ وادی سرخ رنگ کے خونی پہاڑوں کے درمیان واقع تھی۔
اس وادی میں ہر طرف چھوٹے بڑے شیطان جن میں جن بھی تھے، دیو بھی تھے، اور بدروحیں بھی۔ شمان نے تخت کو سردار کوہِ شیطان کے محل کے سامنے اترنے کا حکم دیا اور دوسرے ہی لمحے تخت ایک بہت بڑے غار کے دہانے کے سامنے اتر گیا۔
شمان جادوگر اور کالیا جادوگر دونوں تخت پر سے نیچے اُترے اور غار کی طرف بڑھے، مگر غار کے دہانے پر بہت سے شیطانی دیو پہرہ دے رہے تھے۔ ان کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں۔ شمان نے آگے بڑھنا چاہا تو دیو چیخ اُٹھے۔
“کون ہو تم لوگ؟” اسی وقت ایک انسانی آواز سنائی دی اور وہ چونگ اُٹھے۔
“یہ کیسی آواز تھی؟” کالیا جادوگر نے پوچھا۔
“میں پوچھتا ہوں کون ہو تم لوگ؟”۔
پھر وہی آواز سنائی دی اور ایک آدم خود غار کے اندر سے باہر نکلا۔
“ہم سردار کوہِ شیطان کے دوست ہیں۔” شمان جادوگر نے اسے جواب دیا۔
“میرا نام شمان جادوگر ہے، اور یہ میرے ساتھ میرا وزیر کالیا جادوگر ہے۔” شمان نے اپنا اور کالیا کا تعارف کروایا۔
“تم یہیں کھڑے رہو۔ میں اندر جا کر اپنے سردار کو آگاہ کرتا ہوں۔” یہ کہہ کر وہ آدم خور پہلوان غآر کے اندر چلا گیا۔ پھر کچھ دیر بعد وہ غار کے دہانے پر نمودار ہوا اور ان دونوں کو اندر آنے کو کہا۔
شمان اور کالیا جادوگر آدم خور پہلوان کے پیچھے چل پڑے۔ وہ چلتے چلتے ایک بہت بڑے ہال میں پہنچ گئے۔ ہال میں روشنی ہی روشنی تھی۔ یہ ہال پہاڑوں کی نیچے واقع تھا۔
آدم خور پہلوان انہیں اس ہال میں چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ اب ان کے علاوہ اس ہال میں اور کوئی موجود نہیں تھا۔ شمان نے پہلی مرتبہ اس جگہ کا دورہ کیا تھا۔ مگر وہ کئی بار سردار کوہِ شیطان سے یہاں سے باہر مل چکا تھا۔
ہال پر بڑے بڑے اور خونخوار جنوں اور دیوؤں کی تصویریں لٹکی ہوئی تھیں۔ ان تصویروں میں سب کو ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
“خوش آمدید میرے دوست۔” شمان اور کالیا جادوگر کو کسی کی آواز سنائی گی۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا تو انے کے پیچھے ایک بھاری بھر کم جسم کا آدمی کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اس کا چہرہ کسی آدم خور دیو کی مانند تھا۔ یہی سردار کوہِ شیطان تھا۔
“آہ، میرے دوست۔” شمان نے کہا اور پھر سردار کوہِ شیطان اور شمان جادوگر دونوں بغل گیر ہو گئے۔
“کیسے آنا ہوا دوست؟” سردار کوہِ شیطان نے گلنے ملنے کے بعد شمان سے پوچھا۔
“آؤ، میں تمہیں اپنے دربار میں لے چلتا ہوں۔ وہیں پر ساری باتیں ہونگی۔” یہ کہہ کر سردار کوہِ شیطان اس ہال سے باہر نکل کر ایک بہت بڑے کمرے میں داخل ہو گیا۔ پیچھے پیچھے اس کے شمان اور کالیا بھی تھے۔
یہ نہایت عالیشان کمرہ تھا۔ اس میں بیٹھنے کے لیے نہایت خوبصورت اور دیدہ زیب کرسیاں موجود تھیں۔ جن پر سردار کوہِ شیطان کی مورتیاں بنی ہوئی تھیں۔ اور ایک اونچی جگہ پر ایک بہت عالیشان تخت تھا، جس پر سردار کوہِ شیطان بیٹھتا تھا۔ سردار کوہِ شیطان اور کالیا اور شمان تینوں ان کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
“ہاں، اب بتاؤ کیسے آنا ہوا؟” سردار کوہِ شیطان نے پوچھا۔
“میرے عزیز دوست۔ امیر حمزہ نامی عرب کا بادشاہ اپنے سب سے وفا دار اور عیار انسان عمرو عیار کے ساتھ مل کر تمہاری وادی پر حملہ آور ہونے والا ہے۔ وہ مجھ پر بھی کوئی مرتبہ حملہ کر چکا ہے۔ میں نے اس سے بدلہ لینے کے لیے کئی بار مہم جوئی کی، لیکن ہر بار نا جانے کہاں سے کوئی آفت ٹوٹ پڑتی ہے، اور میری فوج شکست کھا کر واپس لوٹ آتی ہے۔ اس کے ساتھ جو عمرو عیار نامی شخص ہے، وہ بہت عیار اور ذہین آدمی ہے۔ اس کے پاس طلسمی زنبیل ہے، جس میں ہر جادوئی چیز موجود ہے۔ اس کے علاوہ امیر حمزہ کا لشکر بھی بہت جری اور طاقتور ہے۔” شمان جادوگر نے گفتگو کی شروعات کرتے ہوئے کہا۔
“میں آئے روز اس کی حرکتوں کی وجہ سے پریشان ہوں، جب بھی اس پر میں حملے کے لیے کسی کو بھیجتا ہوں، تو وہ اس کا سر مجھے بھیج دیتا ہے۔ اور ساتھ میں عمرو عیار طلسمی چادر اوڑھ کر میرے محل سے قیمتی اشیاء چرا کر لے جاتا ہے۔ میں نے ان سب باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کو ایک پیغام بھیجا کہ میں اپنی سلطنت سے باہر اپنے دوست زباٹا جادوگر سے ملنے جا رہا ہوں، اس لیے کوئی مہم جوئی نا کرنا۔ کیونکہ میں نے واپسی پر اپنے جگری دوست سردار کوہِ شیطان سے بھی ملنا ہے۔ اس پر اس نے کہا کہ جاؤ اور جا کر اپنے دوستوں سے مل لو، اس کے بعد تم اور تمہارے دوستوں کو میں ان کے ہی علاقوں میں گھسیٹ کر ان کی ناک خاک آلود کروں گا۔” شمان جادوگر نے انتہائی چالاکی سے سفید جھوٹ بولا اور خود کو امیر حمزہ کے مقابلے بالکل کمزور ظاہر کیا۔
اسی اثناء میں سردار کوہِ شیطان کی ایک خوبصورت، اونچے قد، اور کھلے بالوں والی کنیز کمرے میں داخل ہوئی، جس کے ہاتھوں میں ایک طشتری تھی۔ اس طشتری میں انگور، سیب، کیلے، اور انار تھے۔ وہ ان کے سامنے طشتری رکھ کر واپیس چلی گئی۔
“یہ کھاؤ میرے دوست۔ تم دونوں کے لیے منگوائے ہیں یہ پھل”۔ سردار کوہِ شیطان نے شمان اور کالیا سے کہا۔ اور خود بھی ایک انگور لے کر اپنے منہ میں ڈال دیا۔
“کھا لو میرے دوست۔ جتنا چاہو کھا لو۔ اس کے بعد وہ ہمارے حلق سے یہ سب نکلوائے گا”۔ شمان جادوگر نے منحوس لہجے میں سردار کوہِ شیطان پر یکے بعد دیگرے دوسرا خطرہ انڈیل دیا۔
شمان جادوگر کی یہ بات سن کر سردار کوہِ شیطان کے گلے میں وہ انگور اٹک گیا۔ اور وہ تکلیف میں اسے نکالنے کے لیے زور سے کھانسے لگا۔ اتنے میں وہ خوبصورت کنیز دوڑی چلی آئی، اور آ کرانگور نکالنے میں مدد کرنے لگی۔ بڑی مشکل سے وہ انگور سردار کے حلق سے باہر نکلا، اور سردار نے بڑے غصے سے شمان سے کہا۔
“نہیں۔ میری غلطی ہے۔ یہ تم لوگوں کے لیے ہے۔ تم لوگ ہی کھاؤ”۔
سردار کوہِ شیطان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ کیسی کالی زبان والے ہیں یہ۔
یہ کہتے ہیں اس نے کچھ دیر کے لیے سر جھکا دیا، اور کچھ سوچنے لگا۔ اس کے بعد اس نےاپنا خنجر نکالا اور کالیا جادوگر کا گلہ کاٹ دیا۔
“اب تم یہاں سے چلے جاؤ شمان”۔ کوہِ شیطان نے شمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
شمان یہ دیکھ کر بہت حیران و پریشان ہو گیا کہ سردار کوہِ شیطان نے اس کے وزیر کا گلہ کیوں کاٹ دیا۔ لیکن شمان بہت ڈر گیا تھا اس لیے اس نے فوراََ منتر پڑھا اور غائب ہو گیا۔
جاری ہے۔۔۔
