پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور موجودہ حالات کے پیشِ نظر اگر ایک عقلمند آدمی اپنی تنخواہ کا دس فیصد بچانا چاہتا ہے، تو یہ سب سے بڑی عقلمندی کی بات ہے۔ روزمرہ کی اشیاء جیسے، پیاز، ٹماٹر، آلو، سبزی، کھانے کا تیل، مصالحے، آٹا، گھی، چینی، چائے کی پتی اور دودھ وغیرہ کے اخراجات کے علاوہ اور دیگر ضروری اخراجات سے ہٹ کر اگر آپ اپنی تنخواہ کا دس فیصد بچانے کا سوچ رہے ہیں، تو آئیے اس بات تفصیلاََ بات کرتے ہیں۔

اخراجات کی فہرست مرتب کریں

سب سے پہلے آپ اپنے اخراجات کی ایک لسٹ مرتب کریں، جس میں روزمرہ کی اشیاء اور دیگر ضروری سامان وغیرہ کی مکمل تفصیل درج ہو۔اس کے بعد آپ اس لسٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بچت کے ممکنہ مواقع کی نشاندہی کریں کہ کہاں سے آپ کو کتنی بچت ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے آپ اگر مقامی یا محلے کے کریانہ اسٹور سے اشیائے ضروریہ خریدتے ہیں تو اس کے بجائے آپ یوٹیلٹی اسٹور کا رُخ کریں۔

اس سے آپ کو اچھی بچت ہو سکتی ہے۔ روزمرہ میں آپ اگر کولڈ ڈرنک، سگریٹ ، یا پان گٹکے استعمال کرتے ہیں تو ان پر قابو پانا شروع کریں، بلکہ میں تو یہی کہوں گا کہ کم از کم کولڈ ڈرنکس کا استعمال ہی ترک کر دیں، ایک تو صحت بہتری کی جانب گامزن ہو گی اور دوسری “بچت” متوقع ہے۔

سمجھداری کا مظاہرہ ضرور کریں

موجودہ حالات کے تناظر میں ہم اس بات پر ذرا روشنی ڈالتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بچت کرنا ضروری ہے؟ تو جناب اس کا جواب یہ ہے کہ روزمرہ کی اشیائے ضروریہ دن بدن مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی کم سے کم راشن اپنے گھر کے لیے خریدتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ٹماٹر کی بات کی جائے تو اگر یہ 400 روپے کلو ہیں، تو عام آدمی 100 روپے کے خریدے گا کہ چلو آج کا نظام تو چل جائے، کل کی کل دیکھیں گے۔

یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن اگر دانشوری سے کام لیا جائے اور 100 کے بجائے 80 روپے کے ٹماٹر لیے جائیں، اور 20 روپے کی بچت کی جائے تو میرا نہیں خیال کہ اس سے آپ کی ضرورت پوری نہیں ہو گی، یقیناََ پوری ہو گی اور آپ نے 20 روپے کی بچت بھی کر لی۔ اسی طرح ہر چیز خریدتے وقت بھاؤ تاؤ بھی کریں اور کچھ نا کچھ پیسے ضرور بچائیں، کیونکہ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ امید ہے میری مثال آپ کی سمجھ میں آ گئی ہو گی۔

خریداری سے پہلے مارکیٹ کا جائزہ ضرور لیں

اس کے علاوہ یہ بات بھی ضرور ذہن نشین کر لیں کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا سب سے پہلے جائزہ ضرور لیا کریں، کیونکہ مارکیٹ میں کچھ منافع خور بھی ہوتے ہیں جو آپ سے 20 یا 30 روپے زیادہ لے کر آپ کو شے تھما دیتے ہیں۔ اس کا آسان اور فائدہ مند حل یہ ہے کہ کچھ وقت نکال کر مارکیٹ کا جائزہ لیں اور جہاں معیاری اور مناسب چیز ملے ادھر سے بھاؤ تاؤ کر کے لے لیں، اس سے آپ کو مزید بچت ہو سکتی ہے۔

“اگر ہم روزانہ کے معمولی اخراجات میں تھوڑی سی سمجھداری دکھائیں تو نہ صرف تنخواہ کا دس فیصد بچایا جا سکتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک اچھا سرمایہ بھی بن سکتا ہے۔”

کفایت شعاری کو اپنائیں

عام دیکھا گیا ہے کہ عوام الناس اشیائے ضروریہ پر تو ہاتھ روک لیتی ہے، لیکن جب عید یا کوئی تہوار آتا ہے تو بے جا پیسہ اُڑانا ان کے لیے کسی بھی طرح شرمندگی کا باعث نہیں ہوتا۔ دل کھول کر بے جا چیزیں خریدنا، فضول اشیاء خرید کر ایک دو دن استعمال کر کے اسے گھر کے کونے میں رکھ دینا یہ سب ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ اگر آپ ایک جگہ کفایت شعاری کی مثال قائم کریں اور وہیں دوسری جگہ بے جا پیسہ اُڑائیں تو میرے خیال میں یہ سراسر بے وقوفی ہے، دانشوری نہیں! یہ تو یہ بات ہو گئی کہ، “ماں مرے رُکھڑیاں، تے تیو دا ناں دہی“۔

آن لائن خریداری میں سمجھداری سے کام لیں

اکثر دیکھا گیا ہے کہ آن لائن خریداری میں لوگ دیکھ بھال اور سمجھداری سے کام نہیں لیتے، اور اگر کچھ پسند آ جائے تو فوراََ خرید لیتے ہیں۔ اور دکھ تو تب ہوتا ہے جب جو چیز منگوائی ہے اس کا نعم البدل موصول ہو۔ ہاہاہا، یہ تو عام ہو گیا ہے کہ منگواؤ کچھ اور آئے کچھ۔ خیر کہنا یہ ہے کہ بجائے آن لائن خریدنے کے، اس شاپ یا اسٹور کا وزٹ کریں اور جا کر بھاؤ تاؤ کر کے اپنی آنکھوں کے سامنے پسندیدہ چیز یا آئٹم پیک کروائیں اور مناسب پیسے ادا کریں۔ اس سے ایک تو فراڈ سے بچا جا سکتا ہے اور دوسرا کچھ “بچت” بھی ہو سکتی ہے۔

میرا ذاتی تجربہ

حال ہی میں، میں نے ایک یوٹیلٹی اسٹور سے کچھ اشیائے ضروریہ خریدیں۔ اور آپ جان کر یقیناََ حیران ہونگے کہ میں نے 1700 روپے کی بچت کی۔ اگر یہی سامان میں کریانہ اسٹور سے خریدتا تو مجھے پوری پیسے دینے پڑتے لیکن یوٹیلٹی اسٹور سے خریداری میں 1700 روپے کی بچت میرے لیے بہت خوشی کا باعث بنی۔ جو چیزیں میں نے خریدی ہیں وہ یہ ہیں: آٹا، چینی، گھی، دالیں، چاول، صابن، صرف، مصالحے، دودھ کے ڈبے، چائے کی پتی، ماچس، کوکنگ آئل، بیسن، اور شیمپو۔ یہ میں نے زیادہ مقدار میں خریدی ہیں، جس کی وجہ سے مجھے 1700 روپے کی بچت ہوئی ہے۔

آخری بات

یاد رکھیں، بچت ایک طویل المدتی عمل ہے اور اگر آپ آج سے ہی سمجھداری سے اپنے اخراجات پر قابو پانا شروع کریں گے، تو کل یا پرسوں آپ کو اس کا فائدہ ضرور ہوگا۔ بے شک پاکستان میں مہنگائی کی شرح حد سے زیادہ ہے، لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اپنے اخراجات جو کہ غیر ضروری ہوں ان کو قابو کریں، بجائے مہنگائی پر رونے کے، اس میں اپنی گزر بسر کیسے کرنی ہے اس پر سوچیں اور عمل کریں۔ یہ نا صرف پاکستان، بلکہ دنیا میں کہیں بھی یہ عادات اپنائی جا سکتیں ہیں، جس کا فائدہ یقیناََ آپ کو ہو گا۔

میں یہ نہیں کہتا کہ آپ سختی سے کام لیں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ کفایت شعاری کو ضرور اپنائیں، اور اپنے پاس اتنی بچت ضرور رکھیں کہ کل کو کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں۔ کیونکہ اگر اپ نوکری پیشہ ہیں تو نوکری آج ہے کل نہیں اس لیے پلان بی ہمیشہ تیار رکھیں، دنیا دکھنے میں اور ہے اور جب آپ اس کے ما تحت ہو جائیں تو اور بن جاتی ہے، اور اپنا اصلی چہرہ ضرور دکھاتی ہے۔ یہ چند مشورے اور تجربات آپ کو سمجھانے اور آسانی کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔

آحقرؔ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ Required fields are marked *