اسلام نے قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں سب سے خطرناک نشانی “مسیح دجال” کو قرار دیا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“آدمؑ کے پیدا ہونے سے قیامت قائم ہونے تک کوئی فتنہ دجال کے فتنے سے زیادہ سخت نہ ہوگا۔”
(صحیح مسلم)
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر نماز کے بعد دعا کرنے کی تلقین فرمائی کہ:
“اے اللہ! مجھے دجال کے فتنے سے محفوظ رکھ۔”
حضرت تمیم داریؓ کا حیران کن واقعہ
حضرت فاطمہ بنت قیسؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو جمع کیا اور فرمایا:
“میں نے تمہیں نہ تو مال بانٹنے کے لیے بلایا ہے اور نہ ہی جہاد کے لیے… بلکہ ایک اہم خبر دینے کے لیے۔”
یہ خبر حضرت تمیم داریؓ کے سفر سے متعلق تھی۔ وہ پہلے عیسائی تھے، پھر اسلام قبول کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے قبیلے کے کچھ افراد کے ساتھ کشتی پر سوار ہوئے۔ سمندر میں ایک مہینہ تک طوفان نے گھمایا، پھر ایک اجنبی جزیرے پر جا اترے۔
جزیرے پر ایک بالوں سے بھرا جانور ملا، جس نے اپنا نام جسّاسہ بتایا اور کہا:
“چلو، ایک شخص تمہیں بلا رہا ہے۔”
جب وہ گرجے میں گئے تو ایک عظیم الجثہ شخص کو زنجیروں میں قید پایا۔ اس نے کہا:
“میں مسیح دجال ہوں۔”
دجال کے سوالات
اس قیدی نے ان سے مختلف سوالات کیے:
-
بیسان کی کھجوروں کے بارے میں پوچھا: “کیا پھل آتا ہے؟”
جواب ملا: “ہاں، آتا ہے۔”
دجال نے کہا: “وقت قریب ہے جب پھل نہ آئیں گے۔” -
بحیرہ طبریہ (Lake Tiberias) کے پانی کا حال پوچھا۔
جواب ملا: “بہت ہے۔”
دجال نے کہا: “ایک دن آئے گا جب یہ خشک ہو جائے گا۔” -
زغر کے چشمے کے بارے میں پوچھا۔
جواب ملا: “بہت پانی ہے، لوگ کھیتی کرتے ہیں۔”
دجال نے کہا: “یہ بھی خشک ہو جائے گا۔” -
پھر اس نے نبی آخرالزماں ﷺ کے بارے میں دریافت کیا۔
بتایا گیا: “وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آ گئے ہیں، اور اب اپنے گرد و نواح پر غالب ہو چکے ہیں۔”
دجال نے کہا: “یہی بہتر تھا کہ لوگ ان کی اطاعت کریں۔”
پھر دجال نے اپنے متعلق بتایا:
“ابھی مجھے نکلنے کی اجازت نہیں ملی۔ لیکن وقت قریب ہے کہ میں آزاد ہوں گا۔ پھر چالیس دن میں ساری زمین کا چکر لگاؤں گا۔ کوئی جگہ ایسی نہ ہوگی جہاں نہ پہنچوں، سوائے مکہ اور مدینہ کے۔ وہاں فرشتے پہرہ دیں گے اور مجھے داخل نہ ہونے دیں گے۔”
رسول اللہ ﷺ کی وضاحت
جب نبی کریم ﷺ نے یہ واقعہ بیان کیا تو فرمایا:
“یہی مدینہ ہے، یہی طیبہ ہے۔”
آپ ﷺ نے مزید فرمایا:
“وہ (دجال) بحر شام یا بحر یمن کی سمت ہے، بلکہ مشرق کی طرف ہے۔”
(صحیح مسلم)
یعنی دجال اس وقت اللہ کے حکم سے کسی نامعلوم جزیرے میں قید ہے، لیکن اس کا ظہور مشرق سے ہوگا۔
دجال کا ظہور اور سفر
احادیث کے مطابق دجال کا ظہور خراسان کے علاقے سے ہوگا۔
قدیم خراسان ایک وسیع خطہ تھا جس میں آج کا ایران، افغانستان، پاکستان کے کچھ حصے، وسطی ایشیا اور شمالی ہندوستان شامل ہیں۔
پھر دجال کا لشکر اصفہان (ایران) میں جمع ہوگا، جس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے۔
اس کے بعد وہ شام، عراق اور دنیا بھر میں فتنہ پھیلائے گا۔
-
مدینہ منورہ: دجال مدینہ کے باہر تک آئے گا، لیکن داخل نہیں ہو سکے گا۔ منافقین اس وقت مدینہ سے بھاگ کر اس کے ساتھ جا ملیں گے۔
-
مکہ مکرمہ: یہاں بھی وہ داخل نہیں ہو سکے گا، کیونکہ فرشتے پہرہ دیں گے۔
-
انجام: آخرکار شام (فلسطین) کے علاقے لُدّ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔
سبق اور نصیحت
-
دجال کی حقیقت ایک بڑا امتحان ہے۔ وہ جھوٹے معجزے دکھائے گا، آسمان سے بارش برسائے گا، زمین کو اناج اگانے پر مجبور کرے گا، اور خدائی کا دعویٰ کرے گا۔
-
صرف وہی لوگ بچیں گے جو ایمان پر ثابت قدم رہیں گے اور قرآن و سنت سے جڑے رہیں گے۔
-
ہمیں روزانہ دعا مانگنی چاہیے:
“اے اللہ! مجھے قبر کے عذاب، جہنم کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنے سے محفوظ رکھ۔”
اختتامی کلمات
دجال آج بھی زندہ ہے اور قید ہے۔ لیکن اس کا ظہور قریب ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کو کتنا مضبوط کر رہے ہیں؟
