دنیا کے ہر انسان کی خواہش ہے کہ وہ خوشحال زندگی گزرے، اپنے بچوں کو بہترین مستقبل دے، اور خود کو مالی طور پر مضبوط بنائے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ آمدنی سے ہی سب کچھ بہتر ہو جائے گا، لیکن اصل کامیابی زیادہ آمدنی میں نہیں، بلکہ سمجھداری سے خرچ کرنے میں ہے۔
آج ہم اسی بارے میں تفصیلاََ بات کریں گے:
آمدنی اور خرچ کا حساب رکھیں
اپنے مالی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آپ کی آمدنی کتنی ہے؟ اور جو آمدنی آ رہی ہے، وہ خرچ کہاں ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں آپ ڈائری یا موبائل ایپس یا پھر ایکسل شیٹ پر مہینے بھر کی تفصیل بنانا شروع کر دیں، جس سے آپ کی آمدنی اور اخراجات کی تفصیل آپ کے سامنے رہے گی۔ جب آپ یہ سب کریں گے تو مہینے کے آخر میں آپ بھی حیران ہو جائیں گے کہ آپ کے اخراجات اور آمدنی میں کتنا فرق ہے۔
بجٹ بنائیں اور اس پر سختی سے عمل کریں
ہر مہینے ایک موضوع بجٹ تشکیل دینا بہت ضروری ہے، کیونکہ اگر آپ کی آمدنی کم ہو اور اخراجات زیادہ، تو مہینے کے معاملات بمشکل چلتے ہیں۔ اس لیے اپنی آمدنی، اخراجات ، اور قرض وغیرہ کو بجٹ میں لسٹ کر کے مہینے کا بجٹ لازمی تشکیل دیں، اور اس پر عمل لازمی کریں۔ یہ سب کچھ آپ کو صاف صاف لکھنا ہے تاکہ بعد میں کوئی مشکل پیش نہ آئے، اور پھر اس بجٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
ایمرجنسی فنڈ بنائیں
زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، اگر آپ ملازمت پیشہ ہیں تو یہ بات یاد رکھیں کہ نوکری جا سکتی ہے، بیماری آ سکتی ہے۔ اور اگر آپ کاروبار کرتے ہیں تو کاروبار میں نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات سے بچنے کے لیے آپ اپنی تین سے چھ ماہ کی ضروری اخراجات کی رقم کو الگ سے محفوظ رکھیں۔ اس سلسلے میں آپ ابھی سے اپنی آمدنی میں سے کچھ رقم الگ سے رکھنا شروع کر دیں۔
سرمایہ کاری لازمی کریں، چاہے تھوڑی ہی ہو
پیسہ اگر صرف بچا کر رکھا جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، لیکن اگر اس پیسے کو کسی منافع بخش جگہ پر لگایا جائے تو یہ وقت کے ساتھ ساتھ منافع بخش ہو سکتا ہے۔ ہمارے اردگرد بہت سے مواقع ہیں جہاں ہم پیسہ لگا کر اپنی اور دوسروں کی زندگی بھی خوشحال بنا سکتے ہیں۔ مثلاََ آپ گلی محلے میں کوئی تندور بنا سکتے ہیں،جہاں آپ کسی ہنر مند تندوربائی کو کام پر لگا سکتے ہیں، اس سے کسی غریب کو معاش ملے گا اور آپ کا سرمایہ آپ کی مستقل آمدنی کا ذریعہ بن جائے گا۔
قرض سے چھٹکارہ حاصل کریں
جتنا جلدی ہو سکے آپ قرض سے لازمی نجات حاصل کریں۔ کیونکہ اگر آپ مقروض ہیں تو آپ کی آمدنی کا ایک حصہ اس کو ادا کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مزید قرض لینے سے اجتناب کریں، اگر فوری ضرورت نا ہو تو۔ اگر آپ کا قرض بہت زیادہ ہے تو بہت سے ادارے موجود ہیں جو ضرورت مندوں کی مالی امداد کرتے ہیں۔ ان سے رابطہ کر کے آپ اپنا قرض ادا کر سکتے ہیں۔
فضول خرچی سے اجتناب کریں
روزمرہ کی ضروریات ِ زندگی سے ہٹ کر عیاشیوں اور فضول خرچیوں سے لازمی خود کو بچائیں۔ اس سلسلے میں آپ اپنی خوراک کو بہتر بنائیں، ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ گوشت، مچھلی، چکن، سبزی اورفروٹ وغیرہ کا استعمال لازمی کریں، لیکن کولڈ ڈرنکس، فالتو اشیاء جیسے گھر کی ڈیکوریشن جو ضروری نہ ہو، ان تمام چیزوں سے حالات کی بہتری تک دوری اختیار کریں۔
صدقہ و خیرات لازمی ادا کریں
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ جو مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا جاتا ہے، وہ کبھی کم نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنی آمدنی میں سے غریبوں، مفلسوں، بیواؤں، مسکینوں اور دیگر محتاج لوگوں پر لازمی خرچ کریں۔
ان تمام باتوں پر عمل پیرا ہو کر آپ اپنی آمدنی کو سمجھداری سے استعمال کر سکتے ہیں۔
