جہیز، یہ لفظ ہماری زبان میں اس قدر رچ بس گیا ہے کہ بظاہر بے ضرر معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے معاشرے کا ایک گہرا زخم، ایک ایسا ناسور ہے جس نے نہ جانے کتنی بیٹیوں کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے۔ روایات کی آڑ میں پنپنے والی یہ وہ رسم ہے جس نے شادی جیسے مقدس رشتے کو ایک مالی لین دین بنا دیا ہے۔ یہ صرف سامان کی ایک فہرست نہیں بلکہ وہ بوجھ ہے جو بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی والدین کے کاندھوں پر آن پڑتا ہے، اور اس بوجھ تلے کئی خواب، کئی رشتے اور کئی زندگیاں دم توڑ دیتی ہیں۔
جہیز ایک سماجی ناسور کیوں ہے؟ جہیز کا مطالبہ یا اس کا رواج محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس کے اثرات انتہائی تباہ کن ہیں۔
- بیٹیوں کی پیدائش کو بوجھ سمجھنا: جب والدین کو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ بیٹی کی شادی کے لیے انہیں بھاری جہیز جمع کرنا پڑے گا، تو بیٹی کی پیدائش خوشی کی بجائے تشویش اور مالی بوجھ کا سبب بننے لگتی ہے۔ یہ رجحان بیٹیوں کے تئیں معاشرتی رویوں کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔
- شادیوں میں تاخیر اور لڑکیوں کی عمر کا بڑھنا: بہت سے غریب اور متوسط طبقے کے والدین مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی شادیاں وقت پر نہیں کر پاتے، جس سے لڑکیوں کی عمریں بڑھتی جاتی ہیں اور وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ مسئلہ ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
- رشتے نہ ملنا یا کم حیثیت رشتوں پر مجبور ہونا: جہیز نہ دے پانے کی صورت میں، اچھی اور تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لیے بھی اچھے رشتے نہیں ملتے۔ والدین مجبوراً اپنی بیٹیوں کو ایسے رشتوں میں بیاہ دیتے ہیں جہاں انہیں عزت اور محبت نہیں ملتی، صرف اس لیے کہ وہاں جہیز کا مطالبہ کم ہوتا ہے۔
- خاندانوں پر مالی بوجھ اور قرضے: جہیز کے لیے والدین اکثر اپنی جمع پونجی لٹا دیتے ہیں، زمینیں بیچ دیتے ہیں یا قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، جس کے بعد ساری زندگی وہ اس قرض کی دلدل سے نکل نہیں پاتے۔ یہ مالی تباہی پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے۔
- شادی کے بعد تشدد اور ہراسانی: افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جہیز کے کم ملنے یا شادی کے بعد مزید مطالبات پورے نہ ہونے پر بہت سی خواتین کو سسرال میں جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں طعنے دیے جاتے ہیں، مارا پیٹا جاتا ہے اور بعض اوقات زندگی سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔
- خودکشی کے بڑھتے واقعات: جہیز کے مطالبات، مالی مشکلات، اور سسرالی تشدد سے تنگ آ کر کئی خواتین اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتی ہیں، جس کے پیچھے یہی لعنت کارفرما ہوتی ہے۔
مذہبی نقطہ نظر: اسلام میں جہیز کا تصور: اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو سادگی اور اعتدال پر زور دیتا ہے۔ اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو کچھ سامان دیا تھا، وہ انتہائی مختصر اور بنیادی ضرورتوں پر مشتمل تھا، جسے “جہیز” کی بجائے “بیٹی کو گھر بسانے میں مدد” کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ کسی مطالبے یا رسم کا حصہ نہیں تھا، بلکہ ایک باپ کی طرف سے بیٹی کو دیا گیا تحفہ تھا۔ اسلام میں شادی کو آسان بنانے کا حکم ہے، اسے مشکل بنانے کا نہیں۔ جہیز کا مطالبہ سراسر اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
قانونی پہلو: جہیز مخالف قوانین: پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں جہیز کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ پاکستان میں “جہیز اور دلہن کا تحفہ (پابندی) ایکٹ 1976” اور بعد میں کی جانے والی ترامیم جہیز کی مقدار کو محدود کرتی ہیں اور اس کے مطالبے کو قابلِ سزا جرم قرار دیتی ہیں۔ تاہم، ان قوانین پر عملدرآمد کی صورتحال انتہائی کمزور ہے، اور سماجی دباؤ کی وجہ سے اکثر متاثرین اپنی آواز نہیں اٹھا پاتے، جس کی وجہ سے یہ قوانین صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
ممکنہ حل اور تجاویز: اس سماجی ناسور کے خاتمے کے لیے ہم سب کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی:
- والدین کا رویہ:
- بیٹیوں کی تعلیم اور تربیت پر سرمایہ کاری: جہیز جمع کرنے کی بجائے بیٹیوں کو بہترین تعلیم دیں، انہیں ہنر مند بنائیں تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور خود مختار بیٹی معاشرے کا فعال رکن ہوتی ہے۔
- جہیز کے مطالبے کو رد کریں: والدین کو چاہیے کہ وہ جہیز مانگنے والے رشتوں کو سختی سے رد کر دیں، چاہے اس کے لیے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں۔
- نوجوانوں کا کردار:
- جہیز کا مطالبہ نہ کرنا: مردوں کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ شادی میں جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے بلکہ سادگی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق شادی کریں گے۔ یہ تبدیلی نوجوانوں کے مضبوط ارادے سے ہی ممکن ہے۔
- سادگی کو فروغ دیں: سادگی سے شادیاں کریں اور فضول رسم و رواج سے گریز کریں۔ اپنی مثال دوسروں کے لیے قائم کریں۔
- علماء اور سماجی تنظیموں کا کردار:
- آگاہی مہم اور مثبت پیغام رسانی: مساجد کے ممبروں اور عوامی اجتماعات میں جہیز کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کی قباحت بیان کی جائے۔
- کمیونٹی سپورٹ: سماجی تنظیمیں جہیز سے متاثرہ خاندانوں اور خواتین کی مدد کریں، انہیں قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کریں۔
- حکومت کا کردار:
- قوانین پر سختی سے عملدرآمد: جہیز مخالف قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ جہیز مانگنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔
- عدالتی عمل میں آسانی: متاثرین کے لیے قانونی کارروائی کو آسان بنایا جائے۔
- عوامی سطح پر بیداری اور مہمات:
- میڈیا، ڈراموں، فلموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے جہیز کے منفی اثرات اور اس کے خلاف آگاہی کو عام کیا جائے۔ ایسی مثالیں پیش کی جائیں جہاں جہیز کے بغیر کامیاب اور خوشگوار شادیاں ہوئیں۔
شداد آحقرؔ
