جہیز، یہ لفظ ہماری زبان میں اس قدر رچ بس گیا ہے کہ بظاہر بے ضرر معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے معاشرے کا ایک گہرا زخم، ایک ایسا ناسور ہے جس نے نہ جانے کتنی بیٹیوں کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے۔ روایات کی آڑ میں پنپنے والی یہ وہ رسم ہے جس نے شادی جیسے مقدس رشتے کو ایک مالی لین دین بنا دیا ہے۔ یہ صرف سامان کی ایک فہرست نہیں بلکہ وہ بوجھ ہے جو بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی والدین کے کاندھوں پر آن پڑتا ہے، اور اس بوجھ تلے کئی خواب، کئی رشتے اور کئی زندگیاں دم توڑ دیتی ہیں۔

جہیز ایک سماجی ناسور کیوں ہے؟ جہیز کا مطالبہ یا اس کا رواج محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس کے اثرات انتہائی تباہ کن ہیں۔

مذہبی نقطہ نظر: اسلام میں جہیز کا تصور: اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو سادگی اور اعتدال پر زور دیتا ہے۔ اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو کچھ سامان دیا تھا، وہ انتہائی مختصر اور بنیادی ضرورتوں پر مشتمل تھا، جسے “جہیز” کی بجائے “بیٹی کو گھر بسانے میں مدد” کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ کسی مطالبے یا رسم کا حصہ نہیں تھا، بلکہ ایک باپ کی طرف سے بیٹی کو دیا گیا تحفہ تھا۔ اسلام میں شادی کو آسان بنانے کا حکم ہے، اسے مشکل بنانے کا نہیں۔ جہیز کا مطالبہ سراسر اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

قانونی پہلو: جہیز مخالف قوانین: پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں جہیز کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ پاکستان میں “جہیز اور دلہن کا تحفہ (پابندی) ایکٹ 1976” اور بعد میں کی جانے والی ترامیم جہیز کی مقدار کو محدود کرتی ہیں اور اس کے مطالبے کو قابلِ سزا جرم قرار دیتی ہیں۔ تاہم، ان قوانین پر عملدرآمد کی صورتحال انتہائی کمزور ہے، اور سماجی دباؤ کی وجہ سے اکثر متاثرین اپنی آواز نہیں اٹھا پاتے، جس کی وجہ سے یہ قوانین صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

ممکنہ حل اور تجاویز: اس سماجی ناسور کے خاتمے کے لیے ہم سب کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی:

شداد آحقرؔ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ Required fields are marked *