انگارہ جادوگر سے گال پر زوردار تھپڑ کھانے کے بعد عمرو عیار امیر حمزہ کے محل کی جانب رواں دواں تھا۔ وہ چلتے ہوئے گال پر ہاتھ رکھ کر کچھ سوچ رہا تھا۔ اسی اثناء میں وہ محل کے اندر داخل ہوا۔ امیر حمزہ تخت پر بیٹھا عمرو عیار کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے عمرو عیار کو آتے ہوئے دیکھ کر اپنے وزیر سے کہا کہ اس کے لیے پانی لاؤ۔
عمرو جب امیر حمزہ کے قریب آیا تو امیر حمزہ بھانپ گیا کہ ضرور اس نے وہاں جا کر کوئی شرارت کی ہے جس کی وجہ سے اس کا گال لال ہے۔ بہر حال امیر حمزہ نے اسے بٹھایا ، پانی پلایا اور پوچھا، “ہاں تو بتاؤ کیا کہا انگارہ جادوگر نے”۔ .
“میرے امیر، انگارہ جادوگر آپ سے کوہِ ابلیس میں آپ کی کارروائی کا شمان جادوگر کے حکم پر بدلہ لینے آیا ہے، لیکن اس نے کہا ہے کہ وہ سب سے پہلے آپ سے اس بارے میں وضاحت چاہتا ہے”۔ عمرو عیار نے ہاتھ پانی سے گیلا کر کے گال پر رکھتے ہوئے کہا۔
“بہت اچھا ہوا، میں تو کہتا ہوں کہ تمہارے دوسرے گال پر بھی ایسا ہی تھپڑ لگنا چاہیے تھا۔ جب میں نے منع کیا تھا کہ وہاں جا کر کوئی شرارت نا کرنا تو پھر باز کیوں نا آئے؟ اب بھگتو”۔ امیر حمزہ نے عمرو کو غصے میں کہا۔
“اب، تم جلدی سے اپنا گال ٹھنڈا کر کے تیار ہو جاؤ، تم اور میرے تین کمانڈر تین سو سپاہیوں کے ہمراہ میرے ساتھ انگارہ جادوگر کے پاس چلو گے”۔ امیر حمزہ نے تخت سے اٹھتے ہوئے کہا اور سیدھا اپنے حرم میں چلا گیا۔
کچھ دیر کے بعد امیر حمزہ، عمرو عیار اور تین کمانڈر اپنے تین سو سپاہیوں کے ہمراہ محل سے انگارہ جادوگر کے پڑاؤ کی جانب چل پڑے۔
“میرے امیر۔ آپ وہاں جا کر انگارہ جادوگر سے کیا کہیں گے؟” عمرو عیار نے امیر حمزہ سے پوچھا۔
امیر حمزہ نے ایک جھلک عمرو عیار کو دیکھنے کے بعد آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے ایک تاریخ ساز اور سنہرے حروف سے لکھا جانے والا جملہ کہا، “تم سب وہاں جا کر معلوم کر لو گے”۔
عمرو عیاراس بات پر بہت شرمندہ ہوا، اور پھر پورے راستے اس نے کوئی بے وقوفانہ حرکت یا بات نہ کی۔
کچھ دیر بعد وہ انگارہ جادوگر کے پڑاؤ کے قریب پہنچ گئے۔ انگارہ جادوگر کے وزیر التمش ناموط جادوگر نے ان کا استقبال کیا اور سپاہیوں کو ایک عظیم الشان بیرک میں سستانے اور کھانا کھلانے کے لیے اپنے ایک کمانڈر کو اشارہ کیا۔ اس کے بعد وہ وزیر امیر حمزہ، عمرو عیار اور تین کمانڈروں کو ساتھ لے کر انگارہ جادوگر کے خیمے کی جانب چلنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ خیمے کے قریب پہنچ گئے۔ جب وہ اندر گئے تو انگارہ جادوگر اپنے تخت پر براجمان کنیز کے ہاتھ سے مشروب پی رہا تھا۔ امیر حمزہ نے اسے شاہی آداب کہا اور جا کر اس کے برابر والے تخت پر جا بیٹھا۔ عمرو عیار اور باقی تین کمانڈر بھی الگ موجود کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
خیمے میں موجود دیگر وزراء اور امراء بھی موجود تھے۔ اسی اثناء میں انگارہ جادوگر نے تالی بجائی اور دو دیو حاضر ہوئے۔
“کیا حکم میرے آقا”۔ ایک دیو نے انگارہ جادوگر سے پوچھا۔
“تم دونو جاؤ اور جا کر کوہِ ابلیس سے وہ پتھر لے آؤ جہاں پر ہمارے حمایت یافتہ یاطوف سردار مقامی لوگوں کی بلی چڑھایا کرتا تھا”۔ انگارہ نے دونوں دیوؤں کو حکم دیا۔
وہ دونوں دیو حکم کی تعمیل کے لیے وہاں سے غائب ہو گئےاور کوہِ ابلیس پہنچ گئے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک بہت بڑے پتھر کو لے کر حاضر ہوئے جس پر بہت سا جما ہوا خون تھا۔
“اب تم مجھے بتاؤ امیر حمزہ۔ تم نے ہمیں مطلع کیے بغیر کیوں وہاں مداخلت کی؟ کیا تم نہیں جانتے کہ شمان بادشاہ کی حدود کا کوئی تعین نہیں”۔ انگارہ نے امیر حمزہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
“تمہارے حمایت یافتہ یاطوف سردار نے معصوموں کی بلیاں جھوٹے بتوں کو چڑھائی ہیں۔ ان لوگوں پر مظالم کیے ہیں۔ کسی کو تو مظلوموں کی مدد کرنا تھی۔ اس لیے میں نے خود یہ کام کیا”۔ امیر حمزہ نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا۔
“یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ یہ لوگ ظالم تھے۔ لیکن شمان کو کیا تم نہیں جانتے۔ وہ کتنا ظالم ہے۔ تمہیں کم از کم اسے تو پہلے مطلع کرنا چاہیے تھا”۔ انگارہ جادوگر نے کہا۔
اتنے میں عمرو عیار اپنی نشست پر سے اُٹھا اور بولا، “یہ کیا بچوں والی باتیں کر رہے ہو تم دونوں؟ اتنے میں تو میں ان دونوں دیوؤں کے سر تن سے جدا کر دوں۔ اور ادھر تم دونوں کی یہ بچگانہ باتیں ہی نہیں ختم ہو رہیں؟”۔
امیر حمزہ فوراََ تخت سے اُٹھا اور غصے میں بولا، “عمرو۔ اپنی زبان کو قابو میں رکھو۔ یہ کیا بکواس کر رہے ہو؟”
“یہ بہت بدزبان ہے۔ اسے آداب ذرا بھی نہیں۔ دیکھو تو سہی، میں تو دشمن ٹھہرا، لیکن تم سے یہ کس لہجے میں بات کر رہا ہے؟” انگارہ جادوگر نے امیر حمزہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے۔ پھر میں یہاں سے چلا جاتا ہوں”۔ عمرو عیار نے یہ کہہ کر تینوں کمانڈروں کو اشارہ کیا کہ میرے ساتھ چلو”۔
یہ کہہ کر عمرو عیار نے اپنی زنبیل سے فوراََ ایک ڈبی نکالی اور اس کو کھول کر اس میں موجود راکھ کو ہوا میں پھونک دیا، جس سے ہر طرف دھواں چھا گیا۔ اور جب دھوں چھٹا تو وہاں پر نا تو امیر حمزہ موجود تھا، نہ عمرو عیار، اور نا ہی تینوں کمانڈر۔ اگر موجود تھا تو انگارہ جادوگر اور اس کے دونوں دیوؤں کے سر، جو دھڑوں سے الگ پڑے تھے۔
یہ عمرو عیار کی چال تھی، جو اس نے یہاں آنے سے پہلے امیر حمزہ کے ساتھ مل کر بنائی تھی۔ اب خیمے میں بھگ دڑ مچ گئی کہ انگارہ کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا ہے۔ انگارہ کی فوج میں بھی بھگ دڑ مچ گئی۔ لیکن وہ بغیر سربراہ کے ایک نا منظم فوج بن چکی تھی۔
اب وہ فوج واپس وزیروں اور امراء کے ہمراہ شمان جادوگر کے ملک چل پڑی۔ کیونکہ اب جنگ کرنے کے لیے کوئی اہم شخص موجود نہ تھا۔ لیکن غیظ و غصہ سب کے اندر موجود تھا۔
یوں عمرو عیار اور امیر حمزہ کی چالاکی نے بہت سی قیمتی جانوں کو بدلے کی بھینٹ چڑھنے سے بچا لیا۔ اور جنگ کو ٹال دیا۔ لیکن خطرہ اب بھی موجود ہے، کیونکہ شمان جادوگر اب خاموش نہیں بیٹھے گا۔ وہ یقیناََ کوہِ ابلیس اور اپنے سب سے خاص آدمی انگارہ جادوگر کی موت کا بدلہ لےگا۔ لیکن اس کے لیے ابھی وقت ہے۔
(اگلی قسط میں ہم یہ بات سب سے پہلے جانیں گے کہ عمرو عیار اور امیر حمزہ نے کیوں اور کیسے یہ پلان مرتب کیا۔ اور وہ وہاں سے انگارہ جادوگر اور دونوں دیوؤں کو قتل کرکے غائب ہونے میں کیسے کامیاب ہوئے۔ اگلی قسط آنے کا انتظار فرمائیں۔ اور یہ بھی کہ امیر حمزہ کے ساتھ آئے تین سو سپاہیوں کے ساتھ کیا ہوا۔)
قسط نمبر1 پڑھنے کے لیے نیچے کلک کریں۔
