قسط نمبر 1
وسطی یورپ میں کوہ ابلیس نامی شہر جہاں کی آبادی ایک لاکھ تھی، وہاں کے لوگوں کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت ظالم اور خونخوار ہیں۔ کوہ ابلیس کے یہ ظالم درندے معصوم لوگوں کو ناحق قتل کرتے اور ان کے سر اپنے دیوتاؤں کو بطور بَلِّی چڑھاتے تھے، اور ان معصوموں کا خون خود پی جاتے تھے۔
بہت سے لوگ کوہ ابلیس سے ان کے مظالم سے تنگ آ کر ہجرت کر چکے تھے اور جو باقی بچ گئے وہ ان خونی درندوں کا شکار ہونے لگے۔ دن بدن یہاں سے لوگ ہجرت کرتے اور جو نا کر پاتے وہ ان کے ہاتھوں مارے جاتے، اس طرح اس شہر کی آبادی آدھی سے بھی کم رہ گئی تھی۔
ایک دن کوہ ابلیس کے چند لوگوں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ ہم عراق کے بزرگ امیر حمزہ کو خط لکھیں اور یہاں کے حالات سے آگاہ کریں۔ شاید وہ ان کی کچھ مدد کر سکیں اور ان کو ان درندوں کے مظالم سے نجات دلائیں۔ چنانچہ انہوں نے امیر حمزہ کو خط لکھا جس میں انہوں نے ان درندوں کے ظلم و بربریت اور خونریزی کے بارے میں اطلاع دی۔ امیر حمزہ نے جب یہ خط پڑھا تو غصے سے آگ بگولا ہو گیا اور اپنی فوج کو لے کر فوراََ کوہ ابلیس کی طرف روانہ ہو گیا۔
چند دنوں بعد وہ کوہ ابلیس میں اپنی فوج سمیت داخل ہو گیا اور وہاں کے خونخوار درندوں پر حملہ کردیا، دیکھتے ہی دیکھتے امیر حمزہ کی بہادر فوج نے وہاں کے ظالم شیطانوں کو نیست و نابود کر دیا۔ وہاں کے لوگوں نے امیر حمزہ اور ان کی فوج کی بہت خدمت کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ امیر حمزہ نے ان لوگوں سے کہا، “آئندہ جب بھی کبھی آپ لوگوں کو میری ضرورت محسوس ہو تو فوراََ خط لکھ کر بلا سکتے ہیں”۔ امیر حمزہ کی اس بات پر لوگوں نے خوشی سے “امیر حمزہ زندہ باد، امیر حمزہ زندہ باد” کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔
کوہ ابلیس سے ان درندوں کو پاک کرنے کے بعد امیر حمزہ اپنی فوج کے ہمراہ واپس بصرہ لوٹے تو انہیں اطلاع ملی کہ عراق کی سرحدوں پر شمان جادوگر شہنشاہ ِ کوہ قاف کا چہیتا بھتیجا انگارہ جادوگر اپنی فوج کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔
امیر حمزہ حیران ہوا کہ انگارہ جادوگر کو آخر جنگ کی کیا سوجھی؟ اس سے تو ان کی کوئی دشمنی نہیں ہے۔ پھر امیر حمزہ نے سوچا کہ ضرور اس جنگ میں شمان جادوگر کا ہاتھ ہوگا، یقیناََ اسی نے انگارہ جادوگر کو ان کے مقابلے کے لیے اکسایا ہوگا۔ لیکن امیر حمزہ جنگ شروع کرنے سے پہلے یہ اطمینان کر لینا ضروری سمجھتا تھا کہ آیا انگارہ جادوگر واقعی جنگ کے لیے آیا ہے یا اس کا مقصد کچھ اور ہے۔ چنانچہ امیر حمزہ نے عمرو عیار کو طلب کیا اور اسے سمجھاتے ہوئے کہا،”عمرو، تمہیں ہمارا قاصد بن کر انگارہ جادوگر کے پاس جانا ہے اور اس سے پہلے یہ دریافت کرنا ہے کہ تم کس مقصد کے لیے یہاں آئے ہو۔ اگر تمہارا مقصد جنگ کرنے کا ہے تو کیوں؟ اس کی کیا وجہ ہے اور ہاں، تم وہاں جا کر کوئی شرارت مت کر لینا، اس سے ہماری ساکھ خراب ہوگی۔ اب جاؤ اور جا کر پتا کرو”۔
“اے امیر محترم! میں آپ کی ہدایت پر پوری طرح عمل کرونگا”۔ عمرو عار نے جواب دیا۔ پھر وہ اپنی سلیمانی زنبیل لے کر سرحد کی طرف چل دیا جہاں انگارہ جادوگر اپنی فوج کے ساتھ پڑاؤ ڈالے بیٹھا تھا۔
جب عمرو عیار انگارہ جادوگر کی فوج کے پڑاؤ کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پڑاؤ کے چاروں طرف فوج کا سخت پہرہ لگا ہوا ہے۔ عمرو عیار آگے بڑھا تو ایک محافظ نے اس کا راستہ روکا اور پوچھا، “کس طرف کو چلے آ رہے ہو۔ آگے جانا منع ہے۔ اور تم ہو کون؟”۔ اس سپاہی نے عمرو عیار کو گھورتے ہوئے کہا۔
“میں جانتا ہوں۔ مگر میں امیر حمزہ کا قاصد ہوں اور انگارہ جادوگر سے بات کرنا چاہتا ہوں”۔ عمرو عیار نے جواب دیا۔ “اوہ، تو تم امیر حمزہ کے قاصد ہو۔ اچھا تو تم میرے پیچھے پیچھے آؤ”۔ سپاہی نے ایک طرف کو بڑھتے ہوئے کہا۔
تھوڑی دیر بعد سپاہی اور عمرو ایک بہت بڑے اور سنہری رنگ کے خیمے کے قریب پہنچ گئے۔ اس خیمے کے گرد اور بھی زیادہ سخت پہرہ تھا۔ عمرو سمجھ گیا کہ یہ انگارہ جادوگر کا خیمہ ہے۔
“تم یہیں ٹھہرو۔ میں اندر جا کر تمہارے بارے میں پوچھ کر آتا ہوں”۔ سپاہی یہ کہہ کر خیمے کے اندر داخل ہو گیا۔
تھوڑی دیر بعد وہ باہر آیا اور عمرو سے کہا، “جاؤ، بادشاہ تم سے ملنے پر رضامند ہیں”۔
“نہ بھی رضامند ہوتا تو عمرو عیار کو رضامند کرنا اچھے سے آتا ہے”۔ یہ کہتے ہوئے عمرو خیمے کے اندر داخل ہو گیا۔ سپاہی حیرت سے اس کا منہ دیکھتا رہ گیا اور پھر واپس جہاں سے آیا تھا اسی طرف چلنے لگا۔
خیمے کے اندر انگارہ جادوگر شیر کی شکل کے ایک بڑے سے سنہری تخت پر براجمان تھا۔ اس کے دائیں بائیں دو اور تخت تھے جن پر اس کے دو وزیر جادوگر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے سامنے اس کے امراء، دوسرے وزراء اور دیگر جادوگر باادب قطار باندھے سر جھائے اپنی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انگارہ جادوگر کے تخت کے پیچھے دو خوبصورت کنیزیں کھڑی اس کو مورچھل جھل رہی تھیں، اور ایک انتہائی خوبصورت کنیز اس کو انگور کھلا رہی تھی۔
عمرو عیار یہ سب دیکھ کر بغیر سلام کیے سیدھا اس کے دائیں طرف رکھے ہوئے تخت کے قریب پہنچا اور تخت پر بیٹھے ہوئے وزیر کو گھور کر بولا ، “میری طرف کیا دیکھ رہے ہو، اُٹھو، مجھے ادھر بیٹھنا ہے”۔
یہ سن کر خیمے میں موجود سب لوگ حیرت زدہ ہوئے، اور عمرو کو گھورنے لگے۔ عمرو عیار نے جب دیکھا کہ وزیر اس کی بات نہیں مان رہا تو اس نے وزیر کو گریبان سے پکڑ کر تخت سے نیچے گرا دیا اور خود بڑی شان و شوکت سے تخت پر بیٹھ گیا۔ سب امراء و وزراء عمرو عیار کی اس حرکت پر حیران و پریشان ہو گئے، لیکن عمرو نے کسی پر دھیان نہیں دیا۔
انگارہ اس بے ادبی پر بہت غصہ ہو کر بولا، “کیا تم واقعی ایک قاصد ہو، یا پھر یہاں پر مرنے آؤ ہو؟”
“ہاں، میں امیر حمزہ کا قاصد ہوں، نام ہے عمرو عیار”۔
“تو یہ کیسی بے ادبی ہے؟ کیا امیر حمزہ نے تمہاری تربیت نہیں کی کہ کیسے بادشاہوں کے سامنے پیش ہوتے ہیں”؟ انگارہ دہشت ناک لہجے میں بولا۔
“معلوم ہوتا ہے کہ واقعی اس نے تمہاری کوئی تربیت نہیں کی۔ ورنہ تم اس طرح اتنی بدتمیزی سے میرے وزیر کو گریبان سے پکڑ کر تخت سے نیچے نہ گراتے”۔ انگارہ جادوگر نے عمرو عیار سے کہا۔
“میں بد تمیز ہوں؟ شاید تمہیں پتا نہیں کہ تم خود کتنے بد اخلاق اور بد تہذیب ہو۔ تم نے تو مجھے بیٹھنے تک کا نہ کہا، اس لیے مجھے یہ حرکت کرنا پڑی”۔ عمرو عیار نے اپنی چالاکی دکھائی۔
“گستاخ۔ اگر تم قاصد نہ ہوتے تو ابھی اسی وقت تمہاری گردن اُڑا کر خیمے کے باہر نیزے پر چڑھا کر تمہیں نشانِ عبرت بنا دیتا”۔ انگارہ جادوگر نے غضبناک ہو کر کہا۔
عمرو عیار معاملے کی نزاکت اور امیر حمزہ کی ہدایت کے مطابق کوئی شرارت نہ کرنے سے باز آتے ہوئے تخت سے اٹھا اور انگارہ کے سامنے کھڑے ہو کر معافی چاہی۔
انگارہ جادوگر نے معاف کرتے ہوئے پوچھا، “اب بتاؤ امیر حمزہ نے کیا پیغام دے کر تمہیں بھیجا ہے”؟
“امیر حمزہ نے مجھے کوئی پیغام دے کر نہیں بھیجا۔ وہ یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ تم کس مقصد سے آؤ ہو”۔ عمرو عیار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
“میں یہاں شمان جادوگر کے حکم سے امیر حمزہ سے اس کے کوہِ ابلیس میں دخل اندازی اور خونریزی جیسے اقدامات کی باز پرس کرنے آیا ہوں۔ شمان نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں امیر حمزہ پر فوراََ حملہ کر کے اس کو نیست و نابود کر دوں، لیکن میں سب سے پہلے اس سے باز پرس کرنا چاہتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ میں نے ابھی تک عراق پر چڑھائی نہیں کی”۔ انگارہ جادوگر نے عمرو عیار کو تفصیل بتائی۔
عمرو عیار نے اس مرتبہ سنجیدگی سے معاملہ پر غور کرتے ہوئے پوچھا، “کیا تم نہیں جانتے کہ امیر حمزہ ایک رحم دل، مظلوموں کی مدد کرنے والا، اور ایک عادل بادشاہ ہے”؟
“یقیناََ میں جانتا ہوں کہ وہ عادل بادشاہ ہے، لیکن اس نے ہمارے ماتحت علاقے پر حملہ کر کے ہماری سرحدوں کی بے حرمتی کی ہے۔ اور ہمارے ہوتے ہوئے اس نے وہاں پر ہمارے زیر ِ سایہ حکمرانوں کو قتل کر کے مقامی لوگوں کو اس علاقے کے سفید و سیاہ کا مالک بنا دیا ہے۔ یہ بات ہمارے لیے کیسے قابلِ قبول ہو سکتی ہے”؟ انگارہ جادوگر نے انتہائی غصے میں کہا۔
“اس لیے میں یہاں بیٹھا ہوں کہ وہ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو کہے۔ مجھے کوئی جلدی نہیں عراق پر حملے کی”۔ انگارہ جادو گر نے انتہائی متکبرانہ انداز میں یہ بات کی۔ اس کے بعد وہ اپنے تخت سے اُترا اور عمرو عیار کے قریب آ کر اس کو ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا۔ اور واپس جا کر اپنے تخت پر بیٹھ گیا۔
عمرو عیار اپنا سرخ گال پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا اور کچھ دیر بعد اٹھا اور اس سے پوچھا، “یہ کیا کر دیا تم نے؟ کیا تمہیں اندازہ نہیں کہ تم نے امیر حمزہ کے قاصد کو تھپڑ مارا ہے؟ یہ کیا حرکت کی تم نے”؟
“یہ میں نے اپنے وزیر، اور اپنے مقام کی بے حرمتی کا بدلہ لیا ہے۔ اب تم جاؤ اور جا کر امیر حمزہ کو ساری صورتحال سے آگاہ کرو۔ میں اس سے کہو کہ میں اس کے پیغام کا منتظر ہوں”۔ انگارہ جادوگر نے تخلیہ کرتے ہوئے کہا اور دوبارہ سے کنیز نے اسے انگور کھلانے شروع کر دیے۔
عمرو عیار اپنا گال پکڑے خیمے سے باہر آیا اور واپس امیر حمزہ کے محل کی جانب چل پڑا۔
مزید قسط نمبر 2 میں ملاحظہ فرمائیں۔
جاری ہے۔۔۔
