یہ واقعہ خلافتِ راشدہ کے زمانے کا ہے، یعنی پیغمبر ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کے دور میں۔ زیادہ تر لوگ یمن کی فتوحات اور وہاں کے قبائل کے ساتھ جنگوں کے بارے میں سنتے ہیں، لیکن جو واقعہ میں بتانے جا رہا ہوں، وہ زیادہ تر کتابوں میں صرف گوشہ نشینی میں ملتا ہے اور اس میں حکمت، صلح اور انسانی نفسیات کا عجیب امتزاج ہے۔
پس منظر
یمن کے قبائل اس وقت ایک دوسرے کے خلاف اکثر لڑائیوں میں مصروف رہتے تھے۔ جب خلافت کی افواج نے یمن میں اسلام کا پرچم بلند کیا، تو وہاں کے کئی قبائل نے فوراً اسلام قبول کیا، مگر کچھ قبائل مزاحمت کرتے رہے۔ خاص طور پر ایک قبیلہ جس کا نام آج کے اکثر تاریخی حوالوں میں چھپ گیا ہے، سخت اور جنگجو تھا۔
واقعہ
حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بعد، جب حضرت عمرؓ خلافت پر تھے، انہوں نے یمن کے قبائل کو قابو پانے کے لیے نہ صرف فوجی اقدامات کیے بلکہ ایک ذہین حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے قبیلے کے سردار کو بلا کر ملاقات کی اور ان سے کہا:
“ہم تمہارے خلاف نہیں آئے، ہم چاہتے ہیں کہ تم امن اور بھائی چارے کے ساتھ اسلام قبول کرو۔”
سردار نے سخت مزاحمت کی اور کہا:
“ہم اپنی آزادی نہیں چھوڑ سکتے، آپ کے قاعدے ہمارے لیے نہیں!”
حضرت عمرؓ نے پھر ایک دلچسپ حکمت اپنائی۔ انہوں نے قبیلے کے سردار کو یمن کے ایک قریبی پہاڑی علاقے میں ایک پرسکون مقام پر لے جا کر دکھایا کہ کس طرح اسلام امن، عدل اور بھائی چارے پر قائم ہے۔ وہ مقام ایک چھوٹا سا بازار اور مسجد کے قریب تھا، جہاں مسلمان اور غیرمسلمان امن کے ساتھ رہتے تھے۔
سردار نے وہاں کے ماحول کو دیکھ کر کہا:
“یہ واقعی کچھ مختلف ہے۔ شاید ہم بھی یہ راستہ اپنا سکتے ہیں۔”
چند دن بعد، قبیلے نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اپنی پرانی دشمنیوں کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد وہ قبیلہ اسلامی سلطنت کے سب سے مضبوط اور وفادار حصوں میں شامل ہوا۔
اثر اور سبق
-
یہ واقعہ دکھاتا ہے کہ بعض اوقات طاقت سے زیادہ حکمت اور سمجھداری اثر ڈالتی ہے۔
-
جنگ کے بجائے صلح اور انسانی نفسیات کو سمجھنا کس قدر اہم ہے۔
-
تاریخی واقعات میں اکثر چھوٹے مگر ذہین فیصلے بڑے اثرات پیدا کرتے ہیں، جو صرف طاقت سے ممکن نہیں ہوتے۔
یہ واقعہ اتنا لمبا یا پیچیدہ نہیں کہ قاری بور ہو، مگر اتنا اثر انگیز ہے کہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ قیادت صرف طاقت سے نہیں، عقل اور حکمت سے بھی کی جاتی ہے۔
