جادوگر افراسیاب اپنے شاہی باغ میں تخت پر بیٹھا نہایت پریشانی کے عالم میں کچھ سوچ رہا تھا۔ ابھی وہ سوچوں میں گم ہی تھا کہ اس کا چالاک وزیر کالا جادوگر بھی ادھر آ نکلا۔ اس نے جب اپنے بادشاہ کو پریشان دیکھا تو پوچھا کہ کیا بات ہے آقا، آپ پریشان کیوں ہیں؟
افراسیاب نے وزیر سے کہا کہ عمرو عیار نے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب آؤں، لیکن تمہیں معلوم ہے کہ عمرو ہمیشہ طلسم ہو شربا میں آتا ہے، اور ہمیں نقصان پہنچا کر ہماری دولت لوٹ کر لے جاتا ہے۔ اس نے ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے، اور سونے پر سہاگا کہ ہم اس کا بال بھی بیکا نہیں کر پاتے۔ اب اگر ہم اس کے مقابلے کے لیے عرب روانہ نا ہوئے، تو وہ ہماری بہت بے عزتی کرےگا۔ لیکن اگر ہم اس کے مقابلے کے لیے عرب چلے گئے، تو ہم زندہ واپس بھی نہیں آئیں گے۔اس لیے کہ طلسم ہو شربا سے باہر ہمارا جادو کام نہیں کرتا۔ اب سوچتا ہوں کہ عمرو عیار کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟
وزیر نے افراسیاب کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ عالی جاہ! آپ پریشان نہ ہوں، اس مرتبہ آپ عمرو کو ختم کرنے کے لیے طلسمی ڈھانچوں کو بھیجیں، مجھے یقین ہے کہ وہ ضرور عمرو عیار کا خاتمہ کر دیں گے۔
افراسیاب نے جب یہ سنا تو کہا، “واہ۔ یہ تو بہت اچھی ترکیب ہے۔ میں ابھی طلسمی ڈھانچوں کو بلاتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ وہ عمرو عیار کو شکست دینے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے”۔ اتنا کہنے کے بعد افراسیاب نے ایک منتر پڑھا اور زور سے زمین پر پاؤں مارا۔ فوراََ ہی زمین سے بیس طلسمی ڈھانچے اس کے سامنے نمودار ہوئے۔ ان میں سے سب سے بڑا ڈھانچہ آگے بڑھا۔ یہ ڈھانچہ دوسرے تمام ڈھانچوں کا سردار تھا۔ اس نے سر جھکاتے ہوئے سلام کہا اور بولا۔ “کیا حکم ہے میرے آقا، آپ نے ہمیں کیوں یاد کیا”؟
“تمہیں عمرو عیار کے مقابلے کے لیے عرب جانا ہے، اور عمرو کو ہر حال میں شکست دے کر ہلاک کرنا ہے”۔ افراسیاب نے جواب دیا۔

عمرو عیار اور طلسمی ڈھانچوں کی لڑائی

“جو حکم میرے بادشاہ۔ ہم عمرو کو ضرور ہلاک کر کے واپس آئیں گے، اور اس کا سر آپ کے قدموں میں ڈال دیں گے”۔ سردار ڈھانچے نے سر جھکاتے ہوئے جواب دیا۔ افراسیاب نے زور سے تالی بجائی تو ایک بہت بڑا تخت اُڑتا ہوا آیا اور باغ میں اتر گیا۔ تخت پر بہت سے تلواریں بھی پڑی تھیں۔ “یہ تلواریں تھام لو، اور تخت پر سوار ہو کر عمرو عیار کے مقابلے پر روانہ ہو جاؤ۔ یاد رہے کہ عمرو کو ہر حال میں ہلاک کرنا ہے”۔ افراسیاب نے زور دیتے ہوئے کہا۔
“ایسا ہی ہوگا میرے آقا”۔ سردار ڈھانچے نے جواب دیا۔
پھر وہ باقی ڈھانچوں کے ساتھ تخت پر سوار ہو گیا۔ تمام ڈھانچوں نے ایک ایک تلوار تھام لی۔ سردار ڈھانچے نے تخت کو اُڑنے کا حکم دیا، اور تخت ہوا میں بلند ہوا اور تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف اُڑنے لگا۔ جلد ہی تخت طلسم ہو شربا کی سرحد پار کر گیا۔ اب وہ عرب کی سر زمین کے اوپر اُڑا جا رہا تھا۔ جلد ہی تخت عمرو عیار کے عظیم الشان محل کے سامنے پہنچ گیا۔ تمام ڈھانچے تخت سے نیچے اتر گئے۔ سردار ڈھانچے نے سب کو ہوشیار رہنے اور اس کے پیچھے آنے کو کہا۔ تمام ڈھانچے ہوشیاری کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے محل کی اندرونی جانب چل پڑے۔ محل کا دروازہ کھلا تھا، سو وہ سب اندر داخل ہو گئے۔
جب وہ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ تمام محل سنسان پڑا ہے، اندر کوئی موجود نہیں۔ سردار ڈھانچے نے کسی کو محل میں موجود نہ پا کر زوردار آواز میں کہا، “ارے خبیث انسان، ہمارے سامنے آ، کدھر چھپ کر بیٹھا ہے۔ افراسیاب نے ہمیں تمہارے مقابلے کے لیے بھیجا ہے۔ سامنے آ شیطان کی اولاد۔ ہم تجھے مزہ چکھا دیں گے”۔ سردار ڈھانچے نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ چھت سے ایک مضبوط جال ان کے اوپر آ گرا اور وہ سب کے سب بری طرح جال میں پھنس گئے۔
اسی وقت انہیں ایک قہقہہ سنائی دیا۔ انہوں نے چونک کر دیکھا تو عمرو عیار ان کے سامنے کھڑا ہنس رہا تھا۔ “تم میرے مقابلے کے لیے آئے ہو۔ مگر میں تم سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتا۔ میں تو صرف تم سے ایک کام لینا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین تھا کہ افراسیاب تمہیں ہی میرے مقابلے کے لیے بھیجے گا”۔ عمرو عیار نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “اچھا تو یہ تمہاری ہمارے خلاف چال تھی”۔ سردار ڈھانچے نے غصہ میں پوچھا۔

عمرو عیار اور طلسمی ڈھانچوں کی کہانی

“اگر تم اسے سازش سمجھتے ہو تو ٹھیک ہے۔ اگر تم میرا ایک چھوٹا سا کام کر دو تو میں تم سب کو رہا کر دونگا۔ ورنہ تم سب کے سب ختم کر دیے جاؤ گے”۔ عمرو عیار نے کہا۔ “اچھا تو تم ہم سے کام لینا چاہتے ہو اس لیے تم نے یہ کھیل کھیلا۔ اگر ہم تمہارا کام کر دیں گے تو تم ہمیں چھوڑ دو گے؟” سردار ڈھانچے نے غصیلی آواز میں کہا۔
“ہاں۔ اور کام یہ ہے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ پاتال میں ایک پرانا قلعہ ہے جس میں ایک صندوق پڑا ہوا ہے جو ہیرے جواہرات سے بھرا پڑا ہے۔ اگر وہ صندوق مجھے مل جائے تو میں تمہیں آزاد کر دونگا۔ اب تم میں سے جو کوئی مجھے وہ صندوق لا کر دے گا، تو ہی میں تم سب کو چھوڑوں گا ورنہ تم سب ہلاک کر دیے جاؤ گے۔ چونکہ تم پاتال کی مخلوق ہو اس لیے تم یہ کام باآسانی کر سکتے ہو۔ بولو منظور ہے”؟ سردار ڈھانچے نے کہا، “ٹھیک ہے۔ تم مجھے اس جال میں سے نکال دو۔ میں تمہیں وہ صندوق لا دیتا ہوں”۔ اور پھر اگلے لمحے سردار ڈھانچہ جال سے باہر تھا۔
“جاؤ۔ اب جا کر پاتال سے وہ صندوق لے آؤ۔ اگر تم واپس نہ آئے تو تمہارے باقی ساتھیوں کی خیر نہیں”۔ عمرو عیار نے اسے خبردار کرتے ہوئے کہا۔ سردار ڈھانچہ فوراََ زمین میں غائب ہو گیا۔
کچھ دیر بعد وہ دوبارہ ایک بوسیدہ صندوق کے ساتھ نمودار ہوا۔عمرو نے اس سے وہ صندوق لیا اور کھول کر دیکھا تو اس میں ہیرے جواہرات تھے۔ عمرو نے صندوق بند کرتے ہوئے کہا، “جاؤ، تم سب اب آزاد ہو۔ اور سیدھے افراسیاب کے پاس جاؤ، اور اس سے کہنا کہ اگر تم عمرو عیار کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو، تو خود اس کے مقابلے پر آؤ، تب مزہ آئے گا”۔ اس کے بعد عمرو عیار نے تمام ڈھانچوں کو جال سے آزاد کر دیا۔ وہ سب تخت پر سوار ہو کر سیدھے افراسیاب کے پاس پہنچے اور اسے عمرو عیار کا پیغام پہنچایا۔ افراسیاب نے جو یہ سنا تو غصے سے اپنا سر پیٹنا شروع کر دیا۔ اور اپنے وزیر کالا جادوگر کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ رسید کیا جس نے اسے طلسمی ڈھانچوں کو عمرو عیار کے مقابلے پر بھیجنے کا مشورہ دیا تھا۔

آحقرؔ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ Required fields are marked *